46

محکمہ سوشل سیکورٹی افسران فیکٹری اور دیگر انڈسٹری کے مالکان کی ملی بھگت سے ورکرز کا استحصال کرنے لگے

قصور(میاں خلیل صدیق آرائیں سے)

محکمہ سوشل سیکورٹی افسران فیکٹری اور دیگر انڈسٹری کے مالکان  کی ملی بھگت سے ورکرز کا استحصال کرنے لگے۔ فیکٹریوں، بھٹوں،سکولوں، دوکانوں اور ہوٹلوں میں کم ورکرز ظاہر کرکے قومی خزانے کو لاکھوں کروڑوں کا نقصان پہنچا نے میں مصروف عمل ہے جو سراسر غریب لیبرز کے ساتھ ظلم ھے،حکومت فوری طور پر ورکروں کا استحصال کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ۔ ان خیالات کا اظہاراتفاق لیبر یونین رجسٹرڈ ا قصور کے عہدیداران عبدالمجید، یاسین طوطا، کبیر چشتی، الیاس اختر سندھونا اور سماجی حلقوں  میجر (ر) حبیب الرحمن ایڈووکیٹ۔مہر محمد  سلیم  اور مہر گلشیر  ودیگر نے صحافیوں سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے ہوٹلوں  سکولوں اور اداروں مثال کے طور پرڈرائیور ہوٹل اور شفیق بار بی کیو میں 70 سے زائد ورکرز کام کر رہے ہیں، ایریا آفیسر لیبر نبیلہ نے ہوٹل مالکان سے ساز باز ہو کر ان کے 10,10 ورکرز کا اندراج کیا ہے، اسی طرح ایک پاورلومز فیکٹری میں 150 سے زائدورکرز کام کرتے ہیں مگر صرف 5 ورکرز رجسٹرڈ کیے جاتے ہیں۔ ایک بھٹے پر 100 سے 150 ورکرز کام کرتے ہیں جبکہ یہاں بھی 5 سے زائد کا اندراج نہیں کیا جاتا۔ لیبر افسران کی اس کرپشن سے جہاں مزدوروں کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں وہیں سرکاری خزانے کو بھی لاکھوں کروڑوں کا نقصان پہنچ رہا ہے۔اسی طرح شہر کے بڑے تقریباً  دس سے بارہ سکولزجن میں  جن کے پاس 500 سو سے  زائدملازمین کام کرتے ہیں مگر محکمہ سوشل سیکورٹی کے افسران نے ان کے بھی صرف بیس سے تیس ملازم رجسٹرڈ کر رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیبر کے کرپٹ افسران اپنی گنتی پوری کرنے کیلئے چھوٹے چھوٹے دوکاندار جن کے پاس ایک یا دو ملازم ہوتے ہیں ان کے کھاتے میں دس سے بیس ملازم رجسٹرڈ کر دیتے ہیں۔ محکمہ سوشل سیکورٹی قصور میں اپنی جیبیں گرم کرنے کے علاوہ ورکرز کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی کام نہیں کر رہا۔ لیبر یونین اور سماجی تنظیموں نے وزیر  اعلی پنجاب،چیف سیکرٹری اورکمشنر سوشل سیکورٹی فوری نوٹس لے کر کرپٹ افسران و اہلکاران کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں جبکہ متعلقہ افسران نے الزمات کی سختی سے تردید کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں