13

سول ایر یا سب ڈویژن   بلھے شاہ سب ڈویژنل سٹی سب ڈویژن رولر سب ڈویژن بہادر پورہ سب ڈویژن اور دیگر  قصور لیسکو واپڈا صارفین کو میٹر خراب کے نام پر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا

صور (میاں خلیل صدیق آرائیں سے)

سول ایر یا سب ڈویژن   بلھے شاہ سب ڈویژنل سٹی سب ڈویژن رولر سب ڈویژن بہادر پورہ سب ڈویژن اور دیگر  قصور لیسکو واپڈا صارفین کو میٹر خراب کے نام پر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا خراب میٹر کو کوٹ لگا کر جو سال میں سب سے زیادہ بل پڑتا ہے اس کو 3 ماہ تک چارج کیا جاتا ہے اور کسی کو تو پانچ ماہ بعد میٹر دیا جاتا ہے صافین اور قصور کی عوام نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا جن میں تصدق حسین کھوکھر آصف کوکھر محمد اسلم اسد بلال خالد تنویر حلیمہ بی بی شبانہ بی بی شکیلہ بی بی اور بشری بی بی میں میڈیا کے سامنے پھٹ پڑے لیسکو واپڈا کی یہ کرپشن جو واپڈا ملازمین نے زیادہ جھوٹا ادھر ڈال کر غریب عوام کی کمر توڑ دی بجلی چوری کرنے پر واپڈا ملازمین چوروں کو کھلی چھٹی دی ہوئی ہے اور ان سے اپنی جیب بھر کر کھلم کھلا کرپشن کی جارہی ہے اور کوٹ لگے ہوئے  میٹرو پر زیادہ یونٹ چارج کرکے اپنی کرپشن چھپانے کی جا رہی ہے اور عوام کو  کہا جاتا ہے سال میں سب سے زیادہ بل جو گرمیوں میں آتا ہے اسے سردی میں ڈال دیا جاتا ہے اور بعد میں  مک مکیہ کرکے پیسے لے کر پھر دوست بل  کرایا جاتا ہے عوام کو پانچ ماہ تک کوٹ لگے میٹر کی ہر ماہ بل  درستگی کرانے جانا پڑتا ہے او ہر مہینے  ان کو واپڈا ملازمین کو پیسے دے کر بجلی کا  بل درست کرایا جاتا ہے   واپڈا ملازمین اپنے آفس میں عوام سے مکمل کیا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور واپڈا میں کھلم کھلا کرپشن کی جارہی ہے اگر کسی واپڈا ملازمین کی افسران کو شکایت کی جائے اس درخواست کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا تو واپڈا ملازمین یونین کی آڑ میں عوام کو دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں واپڈا ملازمین کروڑ پتی بن چکے ہیں پیسے کے نشے میں ان کا کہنا ہے جاؤ تم جو مرضی کر لو ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ اعلی افسران تک منتھلی پہنچاتے ہیں قصور  کی عوامی سماجی دینی تنظیموں اور شہریوں نے  وفاقی وزیر بجلی پانی چیئرمین واپڈا اور وزیراعظم پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں یہ واپڈا ملازمین و کی کرپشن اور کھلم کھلا بدمعاشی کے خلاف فی الفور کاروائی کی جائے اسپیشل ٹیم بنا کر خفیہ انکوائری کرکے کیف کردار تک پہنچایا جائے جبکہ لیسکو حکام  نے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں