92

مسلم لیگ ن کے ایم  این اے میاں سعد وسیم شیخ  نے کہا ھے کہ حکومتی وزرا خود نہیں چاہتے

قصور (میاں خلیل صدیق آرائیں سے )

مسلم لیگ ن کے ایم  این اے میاں سعد وسیم شیخ  نے کہا ھے کہ حکومتی وزرا خود نہیں چاہتے کہ مِنی بجٹ پاس ہو، قوم اس وقت 350 ارب روپے کے نئے ٹیکس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔بجلی کے ریٹ کم ہونے چاہئیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ مسلم لیگ ن نے بجلی کی اضافی کیپیسٹی لگائی۔ دوسری طرف حکومت خود چین سے یہ کہہ رہی ہے کہ مسلم لیگ ن کے فارمولے کے تحت 9 ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے لگائے جائیں۔ سمجھ میں نہیں آتا، ملک میں ہو کیا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں لگائے گئے پاور پلانٹس پر پی ٹی آئی کے سارے اعتراضات غلط اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس سارا ریکارڈ ہے، ان پلانٹس کے کک بیکس کا ایک بھی کیس نہیں بن سکا۔ یاد رہے کہ مشیر خزانہ شوکت ترین نے گذشتہ ماہ منی بجٹ لانے کا اعلان کیا تھا۔ مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اگلے ہفتے تک منی بحٹ لائیں گے، چارج سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے لیکن  منی بجٹ میں 350 ارب نیا ٹیکس نہیں ہے بلکہ یہ وہ ٹیکسز ہیں جس پر لوگوں نے کسی نہ کسی طریقے سے استثنیٰ لیا ہوا تھا، آئی ایم ایف نے ہمیں کہا کہ ٹیکس نظام میں مزید اصلاحات کریں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ تازہ معاہدہ پہلے سے مختلف ہے، گذشتہ معاہدہ میں ایسی شرائط پر دستخط کئے گئے تھے جو میرے خیال سے زیادہ سخت تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے 700 ارب روپے ٹیکسیشن کی بات کی تھی میں نے ساڑھے300 ارب پر منوایا۔ آئی ایم ایف نے ہمیں کہا کہ سیلز ٹیکس کے ریٹس کو یونیفارم کرکے 17 فیصد کردیں، ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں، جس سے ٹیکس کلیکشن میں اضافہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں