78

پاکستان کی آبادی 22 کروڑ ہے آدھی سے زیادہ آبادی غربت کا شکار ہے

محمد ظفر زریں سے
مہنگائی کا ممکنہ حل
پاکستان کی آبادی 22 کروڑ ہے آدھی سے زیادہ آبادی غربت کا شکار ہے۔ جس کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ان کا سب سے بڑا مسئلہ دو وقت کی روٹی ہے۔ روٹی کے لیے اہم ترین چار چیزیں ہیں۔ گھی۔ چینی۔ آ ٹا۔ دال۔ پاکستان میں یہ چار چیزیں جس حکومت نے عوام کو فراہم کر دیں۔ وہ امر ہو جائے گی۔ مگر افسوس کہ آج تک یہ چار چیزیں غریب کو باآسانی نہیں مل سکیں۔ پاکستان میں گاڑیوں ہوائی کرایوں۔ حج و عمرہ کے اخراجات کوٹھیوں بنگلوں اور زمینوں کی قیمتوں میں بھی آئے روز اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ لیکن اس پر زیادہ شورشرابا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان چیزوں سے اوپر کا طبقہ متاثر ہوتا ہے۔ جو اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ شور تب اٹھتا ہے جب غریب اور متوسط طبقہ پریشان ہوتا ہے۔ اگر کوئی حکومت درج بالا چار چیزیں نیچے کے طبقے کو مناسب قیمت پر فراہم کردے تو وہ باعزت طریقے سے اپنی ٹرم پوری کر سکتی ہے۔ اور عوام میں پذیرائی حاصل کر سکتی ہے۔ مہنگائی پر تنقید کرنے میں ہم لوگ ٹاپ پر ہیں۔ کیونکہ تنقید کرنا دنیا کا آسان ترین کام ہے۔ مگر آج تنقید کی بجائے مہنگائی کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں
1-جنس کی خرید میں آ ڑھتی کا عمل دخل ختم کر دیا جائے۔ حکومت براہ راست کسان سے جنس خریدے اور کنٹرول ریٹ پر دکانداروں کے حوالے کرے تاکہ دوکاندار ناجائز منافع خوری کا تصور بھی نہ کر سکے۔
2- یوٹیلٹی سٹور کو مزید فعال کیا جائے اور گھی چینی آ ٹا دال کو اولین ترجیح دی جائے۔
3- دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں وال مارٹ۔ ایسڈا۔ ٹیسکو اور آ لڈی کی طرز پر سپر سٹور کھولے جائیں۔ نجی شعبے کی مدد سے کھولے گئے ان سٹورز میں مقابلے کی فضا پیدا کرنے کے لیے ایک شہر میں زیادہ سے زیادہ سٹور کھولے جائیں۔ نجی شعبہ براہِ راست کسان اور مینو فیکچرز سے سامان خریدے اور کسی آ ڑھتی کو اپنے قریب نہ آنے دے۔
4- کوالٹی کو برقرار رکھنے کے لئے ہر سامان کی پندرہ دن کی منی بیک گارنٹی کو یقینی بنایا جائے۔ تاکہ دو نمبری کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔
5- موٹرویز کے دونوں اطراف ہزاروں ایکڑ اراضی خالی پڑی ہے نجی شعبے کی مدد سے موٹر وے کے اطراف برائلر۔ شتر مرغ۔ ہرن۔ تیتر۔ بٹیر۔ دیسی مرغ۔ بکری۔ مچھلی۔ اور کٹے کے فارم بنائے جائیں اگر ایسا ہو گیا تو پانچ سالوں کے اندر اندر ملکی قرضہ زیرو اور پاکستان دنیا بھر میں ہیرو ہو جائے گا خوراک میں نہ صرف خود کفیل ہو جائے گا بلکہ درجنوں ملکوں کی بھوک بھی مٹا سکے گا۔
6- ہماری دالیں زیادہ تر باہر سے آتی ہیں۔ ملکی کسان کو پابند کیا جائے۔ کہ وہ اپنے رقبے کے بیس فیصد حصے پر کوئی نہ کوئی دال ضرور کاشت کرے۔ اس سے پاکستان پہلے سال سے ہی دالوں میں خود کفیل ہو جائے گا اور براہ راست کسان سے دالوں کی خرید کی وجہ سے ان کا ریٹ بھی بہت کم ہو گا۔
کہتے ہیں ( جیڑے گھر وچ دانے اوہدے کملے وی سیانے) اگر ہمارا بھوک کا مسلہ حل ہو گیا پیٹ بھر گیا تو باقی مسئلے خود بخود حل ہو جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں