(سیاسی نہیں قومی محبت) پاکستان سمیت دنیا بھر میں حکومتوں کا آ نا جانا معمول کی بات ہے؛جاپان،انگلینڈ وغیرہ میں آ ئے روز حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں،اور خاص طور پر جن ممالک میں جمہوریت ہے وہاں عددی برتری کی بنا حکومتوں کا تبدیل ہونا نئی بات نہیں،پاکستان میں بھی یہ عمل ماضی میں ہوتا رہا ہے،اور یہ عمل اتنا زیادہ ہوا ہے کہ آ ج تک کسی جمہوری حکومت نے اپنی آ ئینی مدت پوری نہیں کی،ممکن ہے یہ عمل مستقبل میں بھی جاری وساری رہے لیکن ایک بات واضح ہو جانی چاہیے کہ پارٹی وابستگی ایک طرف رکھ کر ہم سب کو پاکستان کی طرف دیکھنا ہے،پارٹیاں حکومت سے جائیں گی اور پھر واپس بھی آ جائیں گی لیکن خدا نخواستہ پاکستان کمزور ہو گیا تو واپسی کا امکان نہیں، ہم اس تجربے سے پہلے گزر چکے ہیں،لہزا ضرورت اس بات کی ہے کہ پارٹی وابستگی پر پاکستان کو فوقیت دی جائے، ہمیں سیاسی نہیں قومی محبت کی زیادہ ضرورت ہے یہ سیاستدان ہماری نظروں میں چاہے اچھے ہوں یا برے لیکن انہوں نے ہی پاکستان چلانا ہے اور انہوں نے ہی پاکستان چلایا ہے پاکستان میں جو بھی ترقی ہوئی ہے انہیں کے ہاتھوں سے ہوئی ہے اگر یہ برے ہیں تو انہیں لانے والے بھی ہم ہی ہیں لہذا نہ ہم برے ہیں اور نہ ہمارا انتخاب برا ہے اختلاف رائے ہم سب کا حق ہے اس کا اظہار کرنا کوئی عیب نہیں ، ہمارے درمیان لاکھ اختلاف ہوں مگر لفظ پاکستان پر ایک ہونا لازم و ملزوم ہے۔ 63

پاکستان سمیت دنیا بھر میں حکومتوں کا آ نا جانا معمول کی بات ہے

(سیاسی نہیں قومی محبت)

پاکستان سمیت دنیا بھر میں حکومتوں کا آ نا جانا معمول کی بات ہے؛جاپان،انگلینڈ وغیرہ میں آ ئے روز حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں،اور خاص طور پر جن ممالک میں جمہوریت ہے وہاں عددی برتری کی بنا حکومتوں کا تبدیل ہونا نئی بات نہیں،پاکستان میں بھی یہ عمل ماضی میں ہوتا رہا ہے،اور یہ عمل اتنا زیادہ ہوا ہے کہ آ ج تک کسی جمہوری حکومت نے اپنی

آ ئینی مدت پوری نہیں کی،ممکن ہے یہ عمل مستقبل میں بھی جاری وساری رہے لیکن ایک بات واضح ہو جانی چاہیے کہ پارٹی وابستگی ایک طرف رکھ کر ہم سب کو پاکستان کی طرف دیکھنا ہے،پارٹیاں حکومت سے جائیں گی اور پھر واپس بھی آ جائیں گی لیکن

خدا نخواستہ پاکستان کمزور ہو گیا تو واپسی کا امکان نہیں، ہم اس تجربے سے پہلے گزر چکے ہیں،لہزا ضرورت اس بات کی ہے کہ پارٹی وابستگی پر پاکستان کو فوقیت دی جائے، ہمیں سیاسی نہیں قومی محبت کی زیادہ ضرورت ہے یہ سیاستدان ہماری نظروں میں چاہے اچھے ہوں یا برے لیکن انہوں نے ہی پاکستان چلانا ہے اور انہوں نے ہی پاکستان چلایا ہے پاکستان میں جو بھی ترقی ہوئی ہے انہیں کے ہاتھوں سے ہوئی ہے اگر یہ برے ہیں تو انہیں لانے والے بھی ہم ہی ہیں لہذا نہ ہم برے ہیں اور نہ ہمارا انتخاب برا ہے اختلاف رائے ہم سب کا حق ہے اس کا اظہار کرنا کوئی عیب نہیں ، ہمارے درمیان لاکھ اختلاف ہوں مگر لفظ پاکستان پر ایک ہونا لازم و ملزوم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں