92

موبی لنک میں وارد کے ضم ہونے کے بعدپاکستان میں عملی طور پر چار موبائل کمپنیاں اپنی سروسز فراہم کر رہی ہیں

راجہ ظفر علی خان نمائندہ سند یلیا نوالی

ہائے یہ موبائل کمپنیاں

موبی لنک میں وارد کے ضم ہونے کے بعدپاکستان میں عملی طور پر چار موبائل کمپنیاں اپنی سروسز فراہم کر رہی ہیں بدقسمتی سے تمام کمپنیاں پاکستان کے شہری علاقوں میں اپنی سروسز کو بہتر کرنے پر زیادہ زور دیتی ہیں لیکن شاید ان کو علم نہیں کہ پاکستان کی 70 فیصد آبادی دیہاتوں پر مشتمل ہے دیہاتی علاقوں میں ان کی سروس انتہائی بے کار ہے لوگ سگنل کے مسائل کا شکار ہیں ملک بھر میں کال اور انٹرنیٹ چارجز برابر ہونے کی وجہ سے دیہاتی لوگ پیسے تو پورے ادا کر رہے ہیں مگر فائدے آدھے بھی حاصل نہیں کر پاتے

کیونکہ ان کی کالز اور انٹرنیٹ فنی خرابیوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ تمام تر شکایات درج کرانے کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ اور انٹرنیشنل معیار سے ہٹ کر ڈنگ ٹپاؤ مہم کے تحت کہیں کہیں بوسٹر لگا دئیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو گھیرا جا سکے۔ ہزاروں سمیں سیل کردی جاتی ہیں۔ لاکھوں روپوں کے لوڈ بیچ دیئے جاتے ہیں مگر سروس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہوتی۔ موبائل کمپنیاں ہر سال اربوں روپے پاکستان سے اپنے اپنے ممالک کو ٹرانسفر کر رہے ہیں مگر پاکستانیوں کی قدر اور حوصلہ افزائی ان کے شیڈول میں نہیں۔ یہاں تک کہ یہ کمپنیاں وہ پیسہ بھی پاکستانی عوام سے ایڈوانس میں لے رہے ہیں جو کرپشن کی صورت میں ان کو خسارہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ کمپنیاں ریٹ طے کرتے وقت 30 فیصد رقم معمول سے زیادہ وصول کرتے ہیں۔ تاکہ ان کے پاکستانی ملازمین اگر کرپشن کریں تو اس کی ریکوری ہو سکے پہلے ان کمپنیوں نے اپنے بوسٹر پول فنکشنل کرنے کے لئے جنریٹر کا اہتمام کیا۔ تاکہ لوڈ شیڈنگ کے دوران سروس میں خلل نہ آئے مگر بعد میں یہ کہہ کر اسے سولر سسٹم میں لے آئے کہ پاکستانی تیل وغیرہ میں کرپشن کرتے ہیں اور جنریٹر نہیں چلاتے اب سولر سسٹم بھی ناکامی کی طرف گامزن ہے کیونکہ رات کے وقت لوڈشیڈنگ ہوجائے تو جنریٹر کا انتظام نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے دیہاتی علاقوں میں کئی کئی گھنٹوں تک سروس معطل رہتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں