107

موبی لنک میں وارد کے ضم ہونے کے بعدپاکستان میں عملی طور پر چار موبائل کمپنیاں اپنی سروسز فراہم کر رہی ہیں

راجہ ظفر علی خان نمائندہ سند یلیا نوالی

ہائے یہ موبائل کمپنیاں

موبی لنک میں وارد کے ضم ہونے کے بعدپاکستان میں عملی طور پر چار موبائل کمپنیاں اپنی سروسز فراہم کر رہی ہیں بدقسمتی سے تمام کمپنیاں پاکستان کے شہری علاقوں میں اپنی سروسز کو بہتر کرنے پر زیادہ زور دیتی ہیں لیکن شاید ان کو علم نہیں کہ پاکستان کی 70 فیصد آبادی دیہاتوں پر مشتمل ہے دیہاتی علاقوں میں ان کی سروس انتہائی بے کار ہے لوگ سگنل کے مسائل کا شکار ہیں ملک بھر میں کال اور انٹرنیٹ چارجز برابر ہونے کی وجہ سے دیہاتی لوگ پیسے تو پورے ادا کر رہے ہیں مگر فائدے آدھے بھی حاصل نہیں کر پاتے

کیونکہ ان کی کالز اور انٹرنیٹ فنی خرابیوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ تمام تر شکایات درج کرانے کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ اور انٹرنیشنل معیار سے ہٹ کر ڈنگ ٹپاؤ مہم کے تحت کہیں کہیں بوسٹر لگا دئیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو گھیرا جا سکے۔ ہزاروں سمیں سیل کردی جاتی ہیں۔ لاکھوں روپوں کے لوڈ بیچ دیئے جاتے ہیں مگر سروس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہوتی۔ موبائل کمپنیاں ہر سال اربوں روپے پاکستان سے اپنے اپنے ممالک کو ٹرانسفر کر رہے ہیں مگر پاکستانیوں کی قدر اور حوصلہ افزائی ان کے شیڈول میں نہیں۔ یہاں تک کہ یہ کمپنیاں وہ پیسہ بھی پاکستانی عوام سے ایڈوانس میں لے رہے ہیں جو کرپشن کی صورت میں ان کو خسارہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ کمپنیاں ریٹ طے کرتے وقت 30 فیصد رقم معمول سے زیادہ وصول کرتے ہیں۔ تاکہ ان کے پاکستانی ملازمین اگر کرپشن کریں تو اس کی ریکوری ہو سکے پہلے ان کمپنیوں نے اپنے بوسٹر پول فنکشنل کرنے کے لئے جنریٹر کا اہتمام کیا۔ تاکہ لوڈ شیڈنگ کے دوران سروس میں خلل نہ آئے مگر بعد میں یہ کہہ کر اسے سولر سسٹم میں لے آئے کہ پاکستانی تیل وغیرہ میں کرپشن کرتے ہیں اور جنریٹر نہیں چلاتے اب سولر سسٹم بھی ناکامی کی طرف گامزن ہے کیونکہ رات کے وقت لوڈشیڈنگ ہوجائے تو جنریٹر کا انتظام نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے دیہاتی علاقوں میں کئی کئی گھنٹوں تک سروس معطل رہتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں