47

ملک بھر میں مہنگائی نے اپنے ڈیرے ڈال رکھے ہیں جسے دیکھو مہنگائی کا مارا نظر آتا ہے (وقاص شریف)

ہائے یہ مہنگائی
ملک بھر میں مہنگائی نے اپنے ڈیرے ڈال رکھے ہیں جسے دیکھو مہنگائی کا مارا نظر آتا ہے غربت اعصاب پر چھا گئی ہے جس کی وجہ سے عام انسان نفسیاتی مریض بن چکا ہے ۔اس مہنگائی نے مزدور کسان دیہاڑی دار اور سرکاری ملازمین پر ہٹ ہٹ کر وار کئے ہیں ۔ اپنے اہل خانہ کیلئے روٹی پانی کا بندوبست کرنے کی غرض سے سارا دن دیہاڑی کرنے والا اس وقت زیادہ پریشان ہوجاتا ہے جب اسے دیہاڑی ملتی ہے ۔اپنے ہاتھ میں آٹھ سو روپے تھامے یہ مزدور اس سوچ میں گم ہوجاتا ہے کہ اب اس رقم کا کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ عام آدمی کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔عید کے اس موقع پر بھی نئے کپڑے اور جوتے ایک خواب بن چکے ہیں جن کے بارے میں سوچا تو جا سکتا ہے مگر خریدا نہیں جا سکتا ۔بازاروں کا یہ عالم ہے کہ ایک سرے سے گولی مارو تو دوسرے سرے سے خالی گزر جائے گی ۔ہر طرف بربادی ، سنسانی اور بدحالی ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے چیزیں دیکھنے کی تو آزادی ہے مگر خریدنے کی نہیں ۔اگر ایسی صورتحال ہوتو شکوہ تو بنتا ہے ۔ بقول شاعر
مالک تو اپنے رزق کی تقسیم دیکھ لے
ماں نے تھپک کے لال کو بھوکا سلا دیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں