47

ماں تجھے سلام تیرے مگروں میریئے مائے دنیا دے اس تلکن ویہڑے جدوں وی ڈگیا آپے ای اٹھیا بسم اللہ دی واج نہ آئی نہ کیڑی دا آٹا ڈلیا

محمد ظفر زریں نمائندہ ایکسپریس سندیلیانوالی

ماں تجھے سلام

تیرے مگروں میریئے مائے

دنیا دے اس تلکن ویہڑے

جدوں وی ڈگیا آپے ای اٹھیا

بسم اللہ دی واج نہ آئی

نہ کیڑی دا آٹا ڈلیا

ماں ایسی عظیم ہستی ہے جس کی تعریف کیلئے بڑے بڑے لفظ چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا عظیم رشتہ ہے جس کی نظر کائنات میں نہیں۔ ماں ایک ایسا ادارہ ہے جو کسی لالچ کے  بغیر خدمت پر یقین رکھتا ہے۔ماں ایک دنیا ہے  جس کا اپنا ملک اپنے قوانین اور اپنی عدالتیں ہوتی ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی بہترین وارث ہے اس کی عدالت میں اس کی اولاد ہمیشہ بے قصور ہوتی ہے اس کے قوانین اس کے بچوں پر گھنا سایہ ہوتے ہیں۔ جب بچہ اپنی ماں کی ریاست میں پروان چڑھ رہا ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی سوچ کوئی فکر کوئی مشکل اس کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہوتی ، وہ شہزادوں جیسی زندگی گزار رہا ہوتا ہے ۔ مگر اصل مشکل اس وقت سر اٹھاتی ہے جب یہ عظیم ہستی اپنے مالک حقیقی سے جا ملتی ہے ۔ انسان آسمان سے زمین پر آگرتا ہے۔ناز و نعم ماضی کا حصہ بن  جاتے ہیں اور دنیا کے تھپیڑے حرکت میں آجاتے ہیں۔بھری دنیا میں انسان اکیلا ہو جاتا ہے۔انسان بہت بڑے وکیل سے محروم ہو جاتا ہے۔چھوٹوں چھوٹوں کو بھی بڑی بڑی باتیں کرنے کے موقع مل جاتے ہیں ۔

دنیا کی ساری مائیں میری مائیں ہیں ۔اللہ تعالی سب کو ان کی مائوں کے سائے میں رکھے۔آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں