89

سوہنے شہر قصور کو ناجائزتجاوزات کرنے والی ورکشاپس مافیا کی نظر لگ گئی اندرون شہر میں ناجائزتجاوزات کے انبار

قصور(میاں خلیل صدیق آرائیں سے )سوہنے شہر قصور کو ناجائزتجاوزات کرنے والی ورکشاپس مافیا کی نظر لگ گئی اندرون شہر میں ناجائزتجاوزات کے انبار کی طرح مین شاہراہوں پر بھی ریپئرنگ ورکشاپس اور شورومز والوں کی گاڑیوں، رکشہ سٹینڈز اور فوڈ آئٹمز کی ریڑھیوں نے قبضے جما کر شہریوں کے گزرنے کے راستے انتہائی محدود کردیے اسٹیل باغ چوک سے کھاراچونگی چوک تک ورکشاپس اور فوڈ کارنرز والوں کی طرف سے سڑک پر ریپئرنگ کے لیے آنے والی گاڑیوں کے کھڑا کرنے اور فوڈ کارنر و ٹی سٹال والوں کی جانب سے سڑک ہر کرسیاں ٹیبلز لگانے کی وجہ سے ٹریفک کی لمبی لمبی قطاریں معمول بن گئیں ملحقہ روڈ پر سکولز کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے طلباء کو گزرنے کیلیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے جبکہ اکثر اوقات ٹریفک حادثات بھی دیکھنے میں آتیہیں قصورڈسٹرکٹ پریس کلب کے وفد سے گفتگو کرتے ہو? شہریوں کا کہناتھا کہ ایسا لگتاہے جیسے قصور ناجائزتجاوزات کرنے والوں کے لیے جنت نظیر شہر بن گیا ہے کسی بھی مین روڈ پر آدھے مرلے کی دکان کرایہ پر لیں گاڑیوں کی ورکشاپ بنائیں یا پھر چاہے فوڈکارنر بنالیں آدھی سے زائد سڑک سمیت اس کا اضافی ایریا بھی آپ کے استعمال میں آ جا? گا کیونکہ یہاں آپ کو کوئی پوچھنے والا نہیں ملے گا ان کا کہنا تھا کہ ایک تو سڑکیں مکمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں دوسری طرف ورکشاپ مافیا نے اپنی دکانوں کے باہر کئی کئی ماہ تک کباڑ کی گاڑیاں کھڑی کرکے قبضہ جما رکھا ہے شہریوں کا کہناتھا کہ بار بار ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو شکایات درج کروانے کے کوئی کاروائی دیکھنے میں نہیں آئی اس موقع پر شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور سے نوٹس لے کر ناجائزتجاوزات کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائیاں عمل میں لانے کا مطالبہ کیاہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں