96

سابق چئرمین ضلع کونسل قصورر اور متعلقہ افسران نے مبینہ طور پر بھاری کمیشن

قصور(میاں خلیل صدیق آرائیں سے )سابق چئرمین ضلع کونسل قصورر اور متعلقہ افسران نے مبینہ طور پر بھاری کمیشن وصول کرکے مپیٹیشن کے بغیر تقریباً18کروڑروپے مالیت کے ٹینڈرز کی فل ریٹس پر اپنے من پسند ٹھیکیداران میں بندر بانٹ کردی جس کی وجہ سے حکومتی خزانے کو مجموعی طور پر تقریباً08کروڑروپے مالیت سے زائد کا نقصان پہنچا۔سابق چئیر مین ڈسٹرکٹ کونسل قصور نے ضلع قصور کی مخلتف لنک روڈ ز کی تعمیر و مرمت کے 73ترقیاتی منصوبہ جات کے ٹینڈرز کا اخبار میں اشتہار دیا۔جس کے بعد مؤرخہ 27-12-2021کو ٹینڈرز جاری،اسی دن وصول اور سی دن ہی کھولے جانے تھے لیکن سابق چئیر مین ضلع کونسل قصور اور متعلقہ افسران کی ملی بھگت اور آشرباد سے ٹینڈرز اوپن نہ کیے گئے اور اس طرح تمام ٹینڈرز مپیٹیشن کے بغیر فل ریٹس پر من پسند ٹھیکیداروں کو الاٹ کردیے گئے جس کے عوض مبینہ طور پر ضلع کونسل قصور کے نام پر بارہ فیصد کمیشن وصل کی جو کہ مجموعی طور پر تقریباً02.16کروڑروپے بنتی ہے جبکہ درک آرڈر جاری کرنے کی مد میں چیف آفیسر ضلع کونسل قصور ک،ڈسٹرکٹ آفیسر آئی اینڈ ایس اور دیگر متعلقہ افسران نے مبینہ طور پر چارفیصدکمیشن وصول کی جو مجموعی طور پر تقریباً72لاکھ روپے بنتی ہے اور اس طرح صرف کمیشن کی مد میں تقریباً02کروڑ83لاکھ روپے کی رشوت وصول کی گئی اس کے علاوہ اگر ٹینڈرز اوپن کیے جاتے اور مپیٹیشن کروایا جائے تو عمومی طور پر بیس فیصد سے زائد تک Belowریٹس بھرے جاتے ہیں لیکن مذکورہ بالا ٹینڈرز مپیٹیشن کے بغیر من پسند ٹھیکیداروں کو فل ریٹس پر الاٹ کرنے کی وجہ سے صرف ریٹس کی مد میں منظور نظر ٹھیکداران کو ناجائز فائدہ دیگر حکومتی خزانے کو بیس فیصد Belowکے حساب سے تقریباً03کروڑ 60لاکھ روپے مالیت کا نقصان پہنچایا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالا ترقیاتی منصوبہ جات کے بلز بنانے اور ٹھیکیدارن کو ادائیگیاں کرنے کے عوض ایکسین ا،اور میئر،اکاؤنٹس برانچ وغیرہ مجموعی طور پر بارہ فیصدکمیشن وصو ل کرہے ہیں جو مجموعی طور پر تقریباً2.13کروڑ روپے بنتی ہے اور اس طرح کمیشن وصولی اور ریٹس میں کمی کی مد میں حکومتی خزانے کو مجموعی طورپر تقریباًآٹھ کروڑ روپے مالیت سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا ہے کہ اس معاملے کی تفصیلی انکوائری کروائی جائے اور زمہ داران کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے دوسری طرف سابق چئیر مین ضلع کونس قصور کے زرائع اور متعلقہ افسران نے مذکورہ بالا الزمات کی سختی سے تردید کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں