98

دولت صرف پیسے کا نام ہے کیا؟  تحریر: نبیلہ نادر 

دولت صرف پیسے کا نام ہے کیا؟ 

پیسے کی ہوس اک ایسی چیز ہے جو انسان کو انسان سے دور کرسکتی ہے، انسان کو اندر سے کھوکھلا کرسکتی ہے، انسان کے اندر احساسات کو مٹا کر اس کے اندر غرور اور تکبر کو جنم دے سکتی ہے انسان کو گمراہی کی طرف لے جاسکتی ہے، انسان کو اپنے سب سے اچھے دوست کا بھی دشمن بنا سکتی ہے،رشتوں اور محبتوں کو دل سے نکال سکتی ہے۔

جو انسان پیسے کے پیچھے بھاگتے ہیں، اپنے آس پاس کے لوگوں اور چیزوں سے دوری اختیار کرتے ہوٸے بس دولت کو ہی سب کچھ سمجھ لیتے ہیں وہ کبھی بھی اپنی زندگی میں سکون نہیں پاسکتے۔ ایسے لوگ دولت تو پالیتے ہیں لیکن دولت کی ہوس میں وہ دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے پیسہ ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کو تو اعلی تعلیمی اداروں میں پڑھنے بھیجتے ہیں لیکن جب کوٸی مدد مانگے تو اپنی جیب سے ایک روپیہ نکال کر ان کو دینے کو بھی وہ اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی ہر کوٸی ان کے منہ پر عزت تو کرتا ہے لیکن کوٸی بھی ان سے دل سے خوش نہیں ہوتا۔

پیسےکی ہوس میں وہ سب رشتوں کو پیچھے چھوڑ آتے ہیں اور زندگی کی دوڑ میں تنہا رہ جاتے ہیں۔پیسے کو ہی اپنی دولت سمجھتے ہیں اور اس کے نشے میں چور ایسے لوگ جب کسی مصیبت میں پڑتے ہیں تو ان کو سنبھالنے والا کوٸی نہیں ہوتا۔ تب ان لوگوں کو اپنوں کا خیال آتا ہے لیکن وقت ساتھ نہیں دیتا اور ایسے لوگ پھر  اپنی زندگی کے آخری سانس تک جینے سے بھی ڈرتے ہیں۔ وہ اولاد جس پر اپنی پوری زندگی کی کماٸی لگا دیتے ہیں وہ بھی زندگی کی رنگ رنگیوں میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ اپنے والدین کی نہ تو عزت کرتے ہیں اور نہ ہی بڑھاپے میں ان کا سہارا بنتے ہیں۔

یہ تو ہوگٸے پیسے کو ہی اپنی ساری دولت سمجھنے والے لوگ اور پیسے  کے پجاری لوگ۔ دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنا کام کرتے ہیں اور اپنی کماٸی میں سے اپنے گھر اور آس پاس کے ضرورت مند لوگوں کے حصے کو الگ کرتے ہیں۔ اپنی تھوڑی سے کماٸی جانے والی حق حلال کی کماٸی پر خوش ہوتے ہیں اور اللہ اور اس کی مخلوق کو خوش رکھتے ہیں۔ اپنی اولاد کو بھی اپنی تربیت سے زندگی کے اصول سمجھاتے ہیں۔اپنی اولاد کو محبت اور پیار سیکھاتے ہیں اور یہ پیار اور محبت اللہ کی مخلوق کے لیے ہوتا ہے نا کہ دنیا کی مادہ چیزوں کے لیے۔ وہ زندگی کی دوڑ میں آگے نکل پاٸیں یا نہ لیکن وہ اللہ کی نظروں میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالی نی اس دنیا کی زندگی پر اگلے جہان کی زندگی کو فوقیت دی ہے۔

 

یہ دنیا کچھ بھی نہیں ہے سواٸے ایک دھوکے کے۔ کیونکہ اللہ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمادیا ہے کہ 

 

وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۔

 

ترجمہ:رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہری فریب چیز ہے۔

ٹھیک ہے آپ دولت چاہتے ہیں لیکن پیسہ ہی ساری دولت تو نہیں ہے۔ اس دنیا میں محبت اور احساس سب سے بہترین دولت ہے۔ اس دولت کو پانے کو بعدانسان اللہ اور اس کی مخلوق کو ہر گز نہیں بھلاتا۔اپنے اندر عجز و انکساری پیدا کریں۔ دنیا کے کتنے ہی بڑے اور امیر انسان کیوں نہ بن جاٸیں اپنے اندر غرور جیسی بیماری پیدا نہ ہونے دیجیےکیونکہ جب غرور پیدا ہوتا ہے نا تو انسان کو احساسات سے خالی کردیتا ہے وہ نہ اِس دنیا کا رہتا ہے اور نہ ہی اُس دنیا کا۔ پھر دولت کس کام کی۔۔۔۔ دولت ضرور کماٸیے مگر اس دولت کے پجاری مت بنیے۔ خود کو ایک ایسا انسان بنانے کی کوشش کیجیے جس سے دوسرے انسان کو دکھ نہ پہنچے۔ اپنے اندر احساس کی دنیا قاٸم کریں اور اس دنیا کو دولت کی نظر مت کیجیے۔ اس دنیا کو رہنے کے قابل بناٸیے۔ آٸیے! مل کر احساس کی دنیا بناتے ہیں پیسے اور دولت کو پیچھے چھوڑ کر احساس بھری دنیا قاٸم کرتے ہیں۔ غرور اور تکبر کو ختم کرتے ہیں۔

 احساس کی دنیا قاٸم کرتے ہیں!

تحریر: نبیلہ نادر

@bluegirl_silent

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں