107

فا طمہ قمر: پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور علم و ٹیکنالوجی کا دشمن وزیر تعلیم کے لبادے میں، ،گزشتہ بارہ سال سے نفاذ اردو کی عدالتی’ میڈیائی’ عوامی جنگ لڑ رہی ہوں.

تحریر:
فا طمہ قمر
صدر پاکستان قومی زبان
تحریک شعبہ خواتین
گزشتہ بارہ سال سے نفاذ اردو کی عدالتی’ میڈیائی’ عوامی جنگ لڑ رہی ہوں اور پورا پاکستان نفاذ اردو کے حوالے سے ہماری کوششوں سے واقف ہے- ہم نے نفاذ اردو پر متعدد کانفرنسز راوالپنڈی، اسلام آباد اور لاہور میں کرچکے ہیں جس میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے وزراء بھی شرکت کرچکے ہیں۔ الحمدللہ یہ ہماری مخلصانہ کوششوں کا ثمر ہے کہ آج آکسفورڈ کا فارغ التحصیل وزیراعظم نفاذ اردو کی بات کررہا ہے- ان شاءاللہ بہت جلد اردو پاکستان کی تعلیمی عدالتی اور سرکاری زبان ہوگی- قارئین کرام! میں پاکستان قومی زبان تحریک کی شعبہ خواتین کی صدر ہوں۔ اور پاکستان جاگو تحریک کی شعبہ خواتین کی نائب صدر کی ذمہ داری بھی نبھا رہی ہوں- چند گذارشات پہ توجہ کی طلبگار ہوں۔
جناب چیف جسٹس صاحب! وفاقی وزیر تعلیم کے اثاثہ جات چیک کریں’ ان کی منی ٹریل کریں انہوں نے یکساں نصاب کے نام پر انگریزی مسلط کرکے قوم کابیڑہ غرق کردیا ہے! اپنی تجوریاں بھریں۔ ملک کے نونہالوں کا مستقبل داؤ پر لگادیا۔ ایک ایسا شخص جو وطن فروش، ضمیر فروش اور عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑانے والا ہو- اس کو ملک کی سب سے اہم وزارت “وزارت تعلیم” دینا ملک کی نظریاتی بنیادوں کو منہدم کرنا ہے۔ انہوں نے اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کر نے کے لئے یکساں نصاب کے نام پر انگریزی میں کتب لکھوا کر اپنے منتخب ناشران کو خوب نوازا۔ ایک جانب ان کی جیبیں بھریں تو دوسری طرف اپنے مال و متاع میں اضافہ کر کے قوم کی خون پسینے کی کمائی اربوں کھربوں روپے کو ہوا میں اڑا دیا۔ یکساں نصاب کے نام پر انگریزی میں مسلط کردہ نصاب 99.99 فی صد بچوں کی سمجھ سے باہر ہے کیونکہ ان کی زبان پاکستان کے سو فی صد بچوں کے لئے اجنبی ہے- کسی بھی ملک کا اعلٰی سے اعلٰی استاد اپنی قوم کے بچوں کو غیر ملکی زبان میں تعلیم دینے سے قاصر ہے۔ پھر پاکستانی استاد سے یہ توقع کیوں کی جاتی ہے کہ وہ غیر ملکی زبان میں غیر معمولی تعلیمی نتائج پیش کرے گا۔ چیف جسٹس صاحب! ہم چیلنج کرتے ہیں کہ وفاقی و صوبائی وزیر تعلیم اپنے تیارکردہ یکساں نصاب میں جماعت چہارم کا صرف ایک سبق انگریزی میں پڑھا کر دکھادیں۔ ان کایہ لیکچر تمام نشریاتی اداروں سے براہ راست قوم کو دکھایا جائے۔
یہ خبر انتہائی باوثوق ذرائع سے ملی ہے کہ انہوں نے اپنے ہی پیش کردہ یکساں نصاب کو سرکاری تعلیمی اداروں پر نافذ کر کے قوم سے ایک اور فراڈ کیا ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے نجی تعلیمی اداروں “نجی ناشران” کو ریفرنس کتب کی اجازت دے کر اربوں روپے کی کمیشن “این او سی” جاری کرنے کی صورت میں لی ہے۔ جناب عالی! قوم آپ سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان کے اثاثے منجمد کئے جائیں۔ انہوں نے یکساں نصاب کے نام پر جو “ردی” شائع کی ہے۔ان کتب کی اشاعت کے اربوں کی روپے کی وصولی ان کی جیبوں سے کی جائے۔ ان وطن فروشوں کا ایسا عبرت ناک احتساب کیا جائے کہ آئندہ کوئی وزیر تعلیم قوم کے نونہالوں کے مستقبل سے نہ کھیل سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں