101

آئی جی پنجاب نے پولیس تھانہ صدر قصور میں ڈکیتی کے مقدمہ میں زیر حراست ملزمہ پر تشدد

قصور(میاں خلیل صدیق آرائیں سے )

آئی جی پنجاب نے پولیس تھانہ صدر قصور میں ڈکیتی کے مقدمہ میں زیر حراست ملزمہ پر تشدد کے واقعے واقعہ کا نوٹس لیتے ھوئے ڈی ایس پی صدر سرکل اور ایس ایچ او کو معطل کر دیا۔دو روز قبل پولیس تھانہ صدر قصور میں ڈکیتی کے مقدمہ میں گرفتار ملزمہ جمیلہ بی بی زوجہ بابر جو کہ چونگی امر سدھوں لاھور کی رہائشی ہے پر تشدد کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ھوئی تو ڈی پی او قصور صہیب اشرف نے واقعہ فوری نوٹس لیتے ھوئے تفتیشی انسپکٹر حیدر علی لیڈی کانسٹیبل ٹیبل اور پرائیویٹ خاتون میڈم ساجدہ بی بی کے خلاف مقدمہ درج کیا کرلیا اور میڈم ساجدہ بی بی کو بھی حراست میں لے لیا جبکہ انسپکٹر حیدر علی اور لیڈی کانسٹیبل کو معطل بھی کر دیا۔پولیس ترجمان کے مطابق ساجدہ نامی خاتون نے تفتیشی کے ساتھ تعلقات کی بنا پر خاتون تک رسائی حاصل کی اور تفتیشی انسپکٹر حیدر کی عدم موجودگی میں ساجدہ نامی خاتون نے ڈکیتی کی ملزمہ جمیلہ بی بی پر منصوبہ بندی سے تشدد کیا۔ ساجدہ نے موقع پر موجود لیڈی کانسٹیبل کو اپنا موبائل دیکر ویڈیو بنوائی۔وڈیو میں میڈم ساجدہ کو ملزمہ پر تشدد کرتے ھوئے واضح دیکھا جا سکتا ھے کہ وہ ملزمہ پر چھترول کر ہی ھے اور دوسری وڈیو میں میڈم ساجدہ ملزمہ سے تفتیش کر رہی ھے جبکہ گزشتہ روز آئی جی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی صدر سرکل قصور ذوالفقار ورک اور ایس ایچ او صدر قصور ادریس چدھڑ کو بھی معطل کر دیا ھے جبکہ ایس ایم پی انویسٹی گیشن قصور کو تبدیل کر دیا ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں